بدھ، 20 جنوری، 2021

انسان اپنے خاندان سے پہچانا جاتا ہے

 ایک دن بادشاہ سلطان محمود غزنوی کا دربار لگا ھوا تھا. ہزاروں افراد موجود تھے جن میں اولیاء قطب اور ابدال بھی موجود تھے۔ سلطان محمود نے  کہا کوئی شخص مجھے حضرت خضر علیہ السلام کی زیارت کرا سکتا ہے.

 سب لوگ خاموش رہے پھر دربار میں بیٹھا اک غریب شخص کھڑا ہوا اور کہا میں آپ کو زیارت کرا سکتا ہوں.

 سلطان نے شرائط پوچھی تو بولا 6 ماہ دریا کے کنارے چلہ کاٹنا ہو گا اور  میں اک غریب آدمی ہوں تو میرے گھر کا خرچا آپ کو اٹھانا ہو گا ۔۔۔۔ 

سلطان نے شرط منظور کر لی  اور گھر کا خرچہ بادشاہ کے ذمے ہو گیا.

 6 ماہ گزرنے کے بعد اس شخص کو دربار میں بلایا گیا اور پوچھا تو کہنے لگا حضور کچھ وظائف الٹے ہو گئے  لہٰذا 6 ماہ مزید لگیں گے. 

مزید 6 ماہ گزرنے کے بعد بادشاہ  نے اس شخص کو دوبارہ بلایا تو بادشاہ نے پوچھا میرے کام کا کیا ہوا…. ؟

 یہ بات سن کے کہنے لگا بادشاہ سلامت کہاں میں گنہگار اور کہاں حضرت خضر علیہ السلام میں نے آپ سے جھوٹ بولا ….


 میرے بچے بھوک سے مر رہے تھے۔ اس لیے ایسا کرنے پر مجبور ہوا. 

بادشاہ نے اپنے اک وزیر کو کھڑا کیا اور پوچھا اس کو کیا سزا دی جائے. وزیر نے کہااس نے  جھوٹ بولا ھے۔ لہٰذا اس کا گلا کاٹ دیا جائے . دربار میں اک   خوبصوت بزرگ بھی تشریف فرما تھے، کہنے لگے اس وزیر نے بالکل ٹھیک کہا۔۔۔۔۔۔

 بادشاہ نے دوسرے وزیر سے پوچھا ۔۔اس نے کہا سر اس شخص نے فراڈ کیا ہے اسے کتوں کے آگے ڈالا جائے تاکہ یہ ذلیل ہو کہ مرے۔۔۔۔ دربار میں بیٹھےاسی بزرگ نے کہا بادشاہ سلامت یہ وزیر بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے . 

بادشاہ نے اپنے پیارے غلام ایاز سے پوچھا تم کیا کہتے ہو؟

 ایاز نے کہا بادشاہ سلامت آپ کی بادشاہی سے اک سال اک غریب کے بچے کھاتے رہے آپ کے خزانے میں کوئی کمی نہیں آیی .اور نہ اس کے جھوٹ سے آپ کی شان میں کوئی فرق آیا ، تو اسے معاف کر دیں . اگر اسے قتل کر دیا تو اس کے بچے بھوک سے مر جائیں گے …..

ایاز کی یہ بات سن کر محفل میں بیٹھا بزرگ بولا ایاز بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے۔۔۔۔۔

سلطان محمود غزنوی نے اس بابا جی سے پوچھا آپ نے ہر وزیر کے فیصلے کو درست کہا اس کی وجہ مجھے سمجھائی جائے…

وہ کہنے لگے بادشاہ سلامت پہلے وزیر نے کہا اس کا گلا کاٹا جائے وہ قوم کا قصائی ہے اور قصائی کا کام ہے گلے کاٹنا اس نے اپنا خاندانی رنگ دکھایا۔۔۔ غلطی آپ کی ہے کہ آپ نے اک قصائی کو وزیر بنا لیا. 

دوسرے نےکہا کتوں کے آگے ڈالا جائے اُس وزیر کا والد بادشاہوں کے کتے نہلایا کرتا تھا۔۔ اس کا کام ہی کتوں کا شکار ہے تو اس نے اپنے خاندان کا تعارف کرایا۔۔۔۔

 آپ کی غلطی یے کہ جہاں ایسے لوگ وزیرہوں وہاں لوگوں نے بھوک سے ھی مرنا ہے


 ایاز نے جو فیصلہ کیا تو سلطان محمود سنو ایاز سیّد زادہ ہے سیّد کی شان یہ ہے کہ سیّد اپنا سارا خاندان کربلا میں ذبح کرا دیتا یے مگر بدلا لینے کا کبھی نہیں سوچتا …..

سلطان محمود  ایاز کو مخاطب کر کہ کہتا ہے ایاز تم نے آج تک مجھے کیوں نہیں بتایا کہ تم سیّد ہو ایاز کہتا ہے آج تک کسی کو اس بات کا علم نہ تھا کہ ایاز سیّد ہے لیکن آج بابا جی نے میرا راز کھولا آج میں بھی ایک راز کھول دیتا ہوں۔ 

اے بادشاہ سلامت یہ بابا کوئی عام ہستی نہیں یہی حضرت خضر علیہ السلام ہیں.

بادشاہ حیران ہو گیا۔۔۔۔۔


2 تبصرے:

21 جنوری، 2021 کو 6:11 AM پر, Blogger joob informations نے کہا...

Nicd

 
21 جنوری، 2021 کو 8:11 PM پر, Blogger News & Entertainment نے کہا...

Thanks

 

ایک تبصرہ شائع کریں

سبسکرائب کریں در تبصرے شائع کریں [Atom]

<< ہوم